نئی دہلی، 28نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) نوٹ بندی کی وجہ سے عام لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے ساتھ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے احتجاج کیا۔اپوزیشن آج اس معاملے پر ”جن آکروش دوس“بھی منا رہا ہے۔تاہم پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اس احتجاج میں ترنمول کانگریس، جنتا دل یو، ایس پی اور بی ایس پی کا کوئی ایم پی نہیں دکھائی دیا۔وہیں اس میں بی جے ڈی کی موجودگی دکھائی دی۔اپوزیشن کے مشترکہ احتجاج میں حصہ لینے والوں میں کانگریس نائب صدر کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر ملکاارجن کھڑگے، جیوتی سندھیا، ویرپا موئلی کے علاوہ راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو، این سی پی کی سپریا سولے، ڈی ایم کے کی کنموئی، سی پی ایم کے محمد سلیم وغیرہ شامل تھے۔اپوزیشن راکان اس معاملے پر نعرے بازی کر رہے تھے اور انہوں نے نوٹ بندی کی وجہ سے لوگوں کو پیش آ رہی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔کانگریس لیڈر ویرپا موئلی نے مودی حکومت کے نوٹ بندی کے اقدامات کو فرضی جنگ بتایا اور کہا کہ یہ کالا دھن کے خلاف حقیقی جنگ نہیں ہے۔راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ لوگوں میں غم و غصہ ہے اور یہ سڑکوں پر لوگوں کے احتجاج سے واضح ہے۔کالا دھن کے خلاف جنگ کے نام پر غریب لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے جبکہ امیر لوگ بچ کر نکل رہے ہیں۔